Sunday , 19 November 2017
Breaking News
By ja aqeedat M kamran ahmad

Bay ja aqeedat m kamran ahmad


Bay ja aqeedat m kamran ahmad. ALLAH tala nay har shay ki hadain muqarar farmai hain aur aik aisi hi makhlook ko in hadood ki pasdari ka hukam bhi dia hai. tafseeli post keliye neechay urdu main mulahiza farmayain aur apnay doston kay sath bhi share karain shukria.

اللّٰہ نے ہر شئے کی حدیں مقرر فرما دیں اور ایک ایسی مخلوق کو اُن حدود کی پاسداری کرنے کا حکم دیا جو خود میں بےحد تھی اور حد سے تجاوز کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ اِسی صلاحیت کی بنیاد پر فرشتوں نے کہا کہ یہ تو زمین میں فساد برپا کرے گا مگر اللّٰہ نے کہا کہ جو ہم جانتے ہیں وہ تم نہیں جانتے۔

ہم سب اپنی اپنی زندگی میں بہت سی حدود کی پاسداری یا اُن سے تجاوز کرنے کی بہت سی وجوہات ساتھ لئے زندگی گُزارتے ہیں۔ انہی حدود میں سے ایک حد ہے جسے “عقیدت” کہا جاتا ہے۔ کسی سے اُنس و محبت رکھنا, کسی کو سراہنا, کسی کی اچھائی بُرائی کے باعث بےغرض یا خودغرض ہو کر اُس کی عزت کرنا, وغیرہ وغیرہ عقیدت کے زمرے میں آتا ہے۔ اہلِ زمین کی ایک کثیر اکثریت اسی مرض میں مبتلا ہے۔ حضرت علی ابنِ ابی طالب سے پوچھا گیا کہ عقلمند کون ہے۔؟ تو آپ نے فرمایا کہ “جو ہر چیز کو اُس کی جگہ پر رکھتا ہو۔” پھر پوچھا گیا کہ جاہل کون ہے تو آپ نے فرمایا کہ “میں بتا چُکا ہوں۔” یعنی جاہل وہ ہے جو کسی بھی چیز کو اُس کی جگہ پر نہیں رکھتا۔ ہم میں ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جو عقل اور جہل کو جانتے ہی نہیں ہیں۔ کیونکہ ہم عقیدت پر بات کر رہے ہیں اِس لئے صرف اِسی جذبے یا صفت سے جُڑے عقل و جہل کو سامنے رکھتے ہیں اور حضرتِ انسان کی ابتداء سے لے کر آج تک کے اللّٰہ اور اللّٰہ والوں سے عقیدت رکھنے کے جذبے کو ایک نظر دیکھتے ہیں۔

لوگوں میں اللّٰہ کے نائب در نائب بندے بھیجے گئے جنہیں انبیاء کہا جاتا ہے۔ یہ اللّٰہ کے وہ خاص بندے ہیں جنہیں عام لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا گیا۔ اس سے ایک بات صاف صاف ظاہر ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو مبعوث کرنے کا مقصد عام لوگوں کو ہدایت یافتہ کرنا تھا نہ کہ یہ کہ خاص لوگوں کا نام زمین میں بُلند ہو جائے۔ خاصانِ خُدا کی عظمت کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ خُدا کے خاص ہیں۔ اُن کا نام ہم لوگوں کے پُکارنے کا محتاج نہیں ہے۔ بلکہ ہم عام لوگ اُن کا نام پُکارنے پر مجبور ہیں کیونکہ ہم خود کوئی خاص نہیں ہیں اِس لئے ہمیشہ خاص لوگوں کے نام عام لوگوں کے لئے ذات خُدا تک پہنچنے یا اُس کا ذکر کرنے کا وسیلہ بنے رہے۔ اِسی تعلق کی بِنا پر عقیدت رکھنے والوں میں وہ نام جن سے وہ عقیدت رکھتے تھے وہی نام اُن کی نظر میں عقیدت کا اعلیٰ ترین معیار بن گئے اور پھر اُن عام لوگوں نے اُسی ایک نام کو سچائی, حق, اور حقیقت کا معیارِ کُل بنا لیا کہ جو اِس نام کو مانتا ہے وہی حق پر ہے باقی سب باطل ہیں۔ اسی نظریے کے تحت حضرت موسیٰ کا نام لینے والوں نے حضرت عیسیٰ کی مخالفت کی اور بعد میں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کی گئی۔

کسی سے عقیدت رکھتے ہوئے اِس قدر پُختہ ہو جانا کہ انسان کی عقل جدت کو رد کر دے درحقیقت ایسی عقیدت رکھنا جہل ہے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم جانتے ہیں کہ انبیاء کی آمد کا سلسلہ تمام ہو چُکا ہے۔ ہمارے پاس اِس بات کی گواہی موجود ہے کہ ہمارے نبی سے بُلند کوئی نبی نہیں ہیں اور تمام انبیاء اُنہی کا عکس ہیں اور تمام انبیاء نے اسلام ہی کی تبلیغ کی۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ بات تسلیم کرنا جتنا آسان ہے, ایک غیر مسلم کی حیثیت سے اسے تسلیم کرنا اُتنا ہی مشکل ہے۔ اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم اپنی عقیدت میں حد سے گزر جاتے ہیں۔ جو لوگ اپنے نبی کی عقیدت میں حد سے بڑھے انہوں نے آئندہ آنے والے نبی کو اپنی بےجا عقیدت کے تحت رد کیا۔ ہم مسلمانوں کو اللّٰہ نے ایسا نبی بخشا جو عقیدت و مدحت کی تمام حدود سے بُلند ہے سو اُن سے جتنی بھی عقیدت رکھی جائے وہ بجا ہی کہلائے گی۔ اِس حقیقت کے باعث مسلمان کسی بھی نبی کی شان میں گستاخی کرنے کے گناہ سے تو محفوظ ہو گئے مگر اپنے نبی کے پیروکاروں کی عقیدت میں حد سے بڑھ جانے کی راہ ابھی بھی مسلمانوں پر کھلی تھی۔ پس یہی راہ اِن کی بربادی کی بنیاد بنی۔ اور انہوں نے اللّٰہ کو سب رنگوں میں دیکھنے کی جگہ اپنے اپنے رنگ بانٹ لیے۔ اور اپنی اپنی تقسیم کو مکمل اسلام کہنا شروع کر دیا۔

چلو یہاں تک تو ٹھیک تھا مگر جب ہم نے اپنے اپنے اسلام میں لوگوں کو داخل کرنے کا بیڑا اُٹھایا تو ہم نے ایک دوسرے سے اُس کے حصے کی سلامتی چھیننا شروع کر دی۔ تم فلاں کو کیوں مانتے ہو اور فلاں کو کیوں نہیں مانتے۔؟ فلاں دن, فلاں نام, تمھارے مسلک کا حصہ ہونے کی وجہ سے تم ادھورے ہو, گمراہ ہو, جہنمی ہو, اور جس مسلک میں تم پیدا کیے گئے ہو اُس کی وجہ سے تم اللّٰہ کی رحمت سے محروم ہو۔ آؤ میرے مسلک والے مسلمان بن جاؤ اور حقیقی اسلام میں داخل ہو جاؤ۔ یہ ایک بےجا عقیدت کی پیدا کردہ بیماری ہے جو خود کو اصلی مسلمان کہنے والی قوم کی گمراہی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ہر ایک کی اپنے اپنے مسلک, مذہب, اور خُدا سے عقیدت جائز ہے لیکن اُسی عقیدت کے زمرے میں دوسروں کا مذہب, مسلک یا خُدا پرکھنا جہالت ہے

۔ ہم اپنے اظہارِ عقیدت میں اِس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ لوگ ممبرِ رسول پر بیٹھ کر ایک دوسرے کے مسلک اور اُن کی نظر میں برگزیدہ ہستیوں کو لعن طعن کرتے ہیں اور دیگر لوگ اُن کی پیروی کرتے ہیں۔ کوئی مولوی صاحب ہوں, کوئی پیر صاحب, یا کوئی بھی بڑے عالم صاحب ہوں تو لوگ بےوجہ ہاتھ باندھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دل میں اُن کا ادب, اُن کی تعلیمات, اُن کی سوچ اور اُن جیسا کردار ہو یا نہ ہو لیکن ظاہر یہی کریں گے کہ بڑے عقیدت مند ہیں۔ اگر یہ سب تعظیم آپ کے اندر موجود ہو, اور آپ جس بھی شخصیت سے اللّٰہ کے لئے عقیدت رکھتے ہیں اُس سے اگر اظہارِ محبت و عقیدت کرنا ضروری ہے تو پھر اِس محبت کا اظہار ایسی جگہ کیجیے جہاں کوئی ناسمجھ اُسے دیکھ کر اللّٰہ کے کسی رنگ سے متنفر نہ ہو۔

اگر کوئی شخص سب کے سامنے اپنے محبوب کا بوسہ لے گا تو حیاداری کے نظریے سے ایسا شخص بےحیا کہلائے گا۔ ہمیں اپنے اپنے بزرگانِ دین یا ظاہری پیر و مُرشد سے اظہارِ عقیدت میں بھی ایسا ہی حیادار ہونے کی ضرورت ہے۔ اور اصل حیاداری تو یہ ہے کہ آپ جس بھی ہستی کا نام لیتے ہوں اُس ہستی کا کردار آپ کے کردار سے چھلکتا ہو۔ کسی جگہ بیٹھ کر دنیاداری کی باتیں کرنا اور بات بات پر اللّٰہ اور اہلِ اللّٰہ کا نام لے کر ہم کیا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔؟ اگر ہم اُن کا کردار نہیں اپنا سکتے تو ہمیں اُن کا نام بدنام کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے۔ جب آپ اپنے پیر و مُرشد کی دست بوسی یا قدم بوسی کرتے ہیں تو جو لوگ آپ کی عقیدت کو نہیں سمجھتے وہ ضرور آپ کے مُرشد سے متنفر ہو جائیں گے۔ لوگوں کی عقیدت کامل بزرگوں کو تو کچھ نہیں کہتی لیکن جو لوگ درجہِ کمال کو نہیں پہنچے ہوتے اُن کے لئے ایسی عقیدت اُن کے نفس کو طاقتور کرنے اور انہیں گمراہی کی جانب لے کر جانے کا باعث بن سکتی ہے۔ ہمارے وقت میں ایسے بہت سے عالم, یا پیر صاحب وغیرہ موجود ہیں جو اندر سے خالی ہیں

اور محض لوگوں کی بےجا عقیدت کے سہارے علم و فضل کی درسگاہوں کے سرپرست بنے بیٹھے ہیں۔ اور اُن کو اِس مقام پر پہنچانے والے وہی لوگ ہیں جو بےجا عقیدت کا شکار ہیں اور اپنی عقیدت میں صحیح غلط کا فرق بھول جاتے ہیں۔ لوگ جس سے عقیدت رکھتے ہیں اُس کے اِس قدر گرویدہ ہو جاتے ہیں کہ اگر اُس کے نام سے اُنہیں کچھ جھوٹ بھی بول دیا جائے تو وہ بنا تحقیق فوراً یقین کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ کسی دوسرے شخص کی دل آزاری سے لے کر اُسے واجب القتل قرار دینے کو بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ بےجا عقیدت ہے جس نے تمام اُمت کو جکڑ کر جہالت میں ڈبو رکھا ہے۔

اللّٰہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو ظاہری عقیدت پرستی کی جہالت سے آزادی عطا فرمائے اور باطنی عقیدت سے آشنائی عطا فرمائے تاکہ ہم محض اہل اللّٰہ کے نام کے نعرے لگا لگا کر اُن سے اظہارِ عقیدت کرنے کی جگہ اُن کا اخلاق و کردار اپنا کر حقیقی عقیدت مندی اختیار کر سکیں۔ آمین۔

تحریر: محمد کامران احمد

keep sharing

Check Also

Dukh ki haqeeqat

Dukh ki haqeeqat

Dukh ki haqeeqat. insan ko jab kabhi bhi dukh milta hai to wo andar say …